مستونگ کیڈٹ کالج واقعے کے دیگرذمہ داروں کوتاحال گرفتار نہیں کیا جاسکا

  • May 19, 2018, 4:49 pm
  • National News
  • 334 Views

کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)پرنسپل کیڈٹ کالج سمیت 2افرد گرفتار،ایک ہفتہ گزرنے کے بعد مستونگ کیڈٹ کالج واقعے کے دیگرذمہ داروں کوتاحال گرفتار نہیں کیا جاسکا،عید الفطر تک پرنسپل ودیگر ملزمان کو سزا نہیں دی گئی توباامرمجبوری کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ لگائیں گے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی،ان خیالات کااظہارسابق اساتذہ رہنماؤں حاجی عبدالغفار کدیزئی، حافظ غلام محمد سومرو نے کیڈٹ کالج مستونگ کے طالبعلم شعیب خان اور ان کے والد محمد امین کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر حاجی عبدالغفار کدیزئی کاکہناتھا کہ گزشتہ صوبے کے نامور اقامتی ادارے میں بیدردی کیساتھ معصوم طلباء پر تشدد قابل مذمت ہے،ادارے میں نظم ونسق کا فقدان، غفلت اور لاپرواہی سے تعلیمی اداروں کو عقوبت خانوں میں تبدل کردیا گیا ہے ، گہری سازش کے تحت بچوں کو اپاہج کرنے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے ،کیڈٹ کالج مستونگ کے واقعے کو سنجیدگی کیساتھ لینا ہوگا، انہوں نے کہا کہ باصلاحیت منتظمین نہیں مبینہ طورپربااثر شخصیات کی ایماء پر لوگوں کو اداروں پہ مسلط کیا جاتا ہے ،کیڈٹ کالج مستونگ میں منتظم کی تقرری کیلئے بہت سے لوگوں نے انٹرویو دیا مگر ناتجربہ کار شخص کو تعینات کرکے ادارے کو اس نہج پر پہنچا دیا گیا،اس موقع پر کیڈٹ شعیب خان کاکہناتھا کہ نہم اور دہم کلاس کے چند طلباء کے درمیان آپس میں منہ ماری ہوئی تھی مگر دونوں کلاسوں کے تمام طلباء کو بیدردی کیساتھ تشدد کا نشانہ بنایا گیا، انہیں بھی بریک ٹائم پہ نیند سے اٹھا کر بری طرح مارا پیٹا گیاجس سے وہ بھی بیہوش ہوگئے،کیڈٹ شعیب کے والد محمد امین کاکہناتھا کہ کیڈٹ کالج میں اکثر بچے سگریٹ پیتے، کلاسیں نہیں لیتے جبکہ موبائل کاسرعام استعمال بھی کرتے ہیں،سینئر طلباء اساتذہ کیساتھ بدتمیزی اور جونیئرطلباء کی بے عزتی بھی کرتے ہیں ،اس موقع پر عبدالغفارکدیزئی نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کیڈٹ کالج مستونگ میں طلباء کی عزت بھی محفوظ نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ تشدد کا یہ پہلا واقعہ نہیں، مذکورہ کالج میں مبینہ طوپر بچوں کو اپاہج کرنے کیلئے پس پردہ پہلے بھی ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں،معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائے اور پرنسپل سمیت ویڈیو میں نظر آنے والے سینئر پروفیسر اور کیڈٹ کالج کے میڈیکل آفیسر سے بھی تحقیقات کی جائے ،انہوں نے کہا کہ ایک ہفتے سے زائد کاعرصہ گزرنے کے بعد بھی پرنسپل سمیت صرف 2افراد گرفتار ہیں باقی ایک درجن سے زائد افراد کو تاحال گرفتار نہیں کیا گیا،انہوں نے کہا کہ عید الفطر تک پرنسپل ودیگر ملزمان کو سزا نہیں دی گئی تو عید کے بعد کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ لگائیں گے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی