ہزارہ خواتین کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاج چوتھے روز بھی جاری

  • May 1, 2018, 11:56 pm
  • National News
  • 351 Views

کوئٹہ(اے این این)وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا کوئٹہ آنے اور ہڑتال پر بیٹھے ہوئی خواتین اور صوبائی وزیر سے اظہار یکجہتی اور دہشتگردوں کے گرفتاری کی یقین دہانی کے باوجود صوبائی اسمبلی،کوئٹہ پریس کلب ،علمدارروڈ اور مغربی بائی پاس پر دھرنے جاری ہے ، ہزارہ خواتین کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاج چوتھے روز بھی جاری رہا کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے آکر اظہار یکجہتی کی اور ان کو یقین دہانی کرائی کہ اس احتجاج میں ہم آپ کے ساتھ ہیں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ میں پشتونخواملی عوامی پارٹی کے رہنماء سابق صوبائی وزیر نواب ایاز خان جو گیزئی ،بلوچستان نیشنل پارٹی کے ملک مجید کاکڑ سمیت سیاسی اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں نے کیمپ آکر اس کے اظہار یکجہتی کی سابق صوبائی وزیر نواب ایاز خان جو گیزئی نے کہاکہ اس وقت کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں کوئی محفوظ نہیں ہے سیکورٹی ادارے عوام کو تحفظ دینے کی بجائے مزید عوام کو مختلف حوالوں سے تنگ کیاجارہا ہے یہی وجہ ہے کہ آج عوام اور سیکورٹی اداروں کے درمیان دوریاں پیدا ہوئی انہوں نے کہاکہ ہم کل بھی دہشتگردی کیخلاف تھے اور آج بھی ہے بلکہ حکومت اور سیکورٹی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ عوام کی تحفظ کیلئے اقدامات کریں اور عوام کو تحفظ فراہم کیا جائے انہوں نے کہاکہ آئین جس کو پاکستان کے پارلیمنٹ نے بنایا ہے مگر افسوس ہے کہ بے اختیار لوگوں کو احساس تک نہیں ہے کہ اس دھرتی پر رہنے والے لوگوں کو بجلی،پانی،صحت اور دیگر بنیادی سہولیات سے تو محروم کررکھا ہے بلکہ زندہ رہنے کا حق بھی چھینا جارہا ہے جو کہ قابل افسوس ہے یہاں بسنے والے تمام اقوام کو زندہ رہنے آزاد زندگی بسر کرنے کا حق دیا جائے انہوں نے کہاکہ ریاست کو یہ احساس تک نہیں ہے کہ یہاں پر عورتیں ،بچے ،جوان ،بوڑھے سب سراپا احتجاج ہے لیکن ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ،انہوں نے کہاکہ آئے روز یہاں پر پے درپے واقعات رونما ہورہے ہیں یہاں کوئی فرقہ واریت نہیں ہے بلکہ ریاست اپنا کردار ادا نہیں کررہا ہے انہوں نے کہاکہ جو بھی قاتل پکڑا جاتا ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے اور پھر ان کو سزادی جائے تاکہ حقائق عوام کے سامنے آئے انہوں نے کہاکہ کئی ہزار مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئی ہے آج تک ان کو انصاف نہیں ملا ہے بہت سے لوگ لاپتہ ہو گئے ہیں انہیں بازیاب کرکے مسخ شدہ لاشوں اور مسنگ پرسنز کے ورثاء کو انصاف دلایا جائے انہوں نے کہاکہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ یہاں رہنے والے تمام اقوام کو زندہ رہنے کا حق دیا جائے تاکہ وہ ایک آزاد زندگی بسر کرے انہوں نے کہاکہ اس سرزمین پر قربان ہونیوالے تمام شہداء کو سرخ سلام پیش کرتے ہیں ۔دریں اثناء احتجاجی کیمپ کے شرکاء جلیلہ حیدر ایڈووکیٹ، حمیدہ علی ہزارہ اور دیگر نے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ پندرہ سالوں سے ہمارے قوم کی نسل کشی جاری ہے حکومت وقت عارضی طور پر دہشتگردوں کیخلاف وعدے تو کرتے ہیں لیکن آج تک عملی طور پر کچھ نہیں کیا بلکہ دہشتگردوں کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی ہے انہوں نے کاہکہ ان تمام صورتحال ہم مجبور ہو کر احتجاج شروع کیا اور اب احتجاج اس وقت تک ختم نہیں کرینگے انہوں نے کہاکہ ہم اپنے مطالبات پر قائم ہے جب تک آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ یہاں آکر ہمیں دہشتگردوں کی گرفتاری کا مکمل گارنٹی اور مکمل یقین دہانی نہیں کراتے ہم ہڑتال ختم نہیں کرینگے دریں اثناء صوبائی اسمبلی کے سامنے مجلس وحدت مسلمین کے رہنماء صوبائی وزیر آغا سید رضا کی جانب سے بھی احتجاج بدستور جاری ہے اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ کوئٹہ شہر میں ٹارگٹ کلرز کو گرفتار اور معصوم لوگوں کو تحفظ فراہم کیا جائے جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں ہوتے ہم ہڑتال ختم نہیں کرینگے ۔واضح رہے کہ کوئٹہ شہر میں ٹارگٹ کلنگ کیخلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے،علمدارروڈ،مغربی بائی پاس اور صوبائی اسمبلی کے سامنے احتجاج ہونے کے باعث روڈ بلاک ہو گئے جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔